بزم وجود ، اللہ تعالے کی شہید ناز ہے؛ ہست و بود کی نہاد کے اندر نیازمندی ہے۔
کیا تو سحر کی پیشانی پر ، مہر فلک تاب کی صورت میں سجدہ کا نشان نہیں دیکھتا۔
All being is a martyr to His whim, all life is graven with the need of Him: Seest thou not the Sun that flames the Sky has left the scar of Worship on Dawn’s rim?