اقبال کے کلیات میں سے کتابیں، نظمیں یا اشعار تلاش کریں۔
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
اے شیخ ! بہت اچھی مکتب کی فضا، لیکن
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں
بلبل چمنستانی، شہباز بیابانی!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر کا
ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
سنیں گے میری صداخانزاد گان کبیر؟
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری
ترے بدن میں اگر سوز 'لاالہ' نہیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
وہی حرم ہے، وہی اعتبار لات و منات
خدا نصیب کرے تجھ کو ضربت کاری
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
ہزار پارہ ہے کہسار کی مسلمانی
کہ ہر قبیلہ ہے اپنے بتوں کا زناری
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
عزیز ہے انھیں نام وزیری و محسود
ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
کہ امتیاز قبائل تمام تر خواری
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
بالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسماں
زیر پر آگیا تو یہی آسماں، زمیں!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
یہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسماں
ہمت ہو پرکشا تو حقیقت میں کچھ نہیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
تو اپنی سرنوشت اب اپنے قلم سے لکھ
خالی رکھی ہے خامہ حق نے تری جبیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی
وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
لاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحب یقیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
خورشید ! سرا پردئہ مشرق سے نکل کر
پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائی
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی