اقبال کے کلیات میں سے کتابیں، نظمیں یا اشعار تلاش کریں۔
نظمیں
1265
نصیحت
ضربِ کلیم
·
سیاست مشرق و مغرب
انتداب
ضربِ کلیم
·
سیاست مشرق و مغرب
گلہ
ضربِ کلیم
·
سیاست مشرق و مغرب
مسولینی
ضربِ کلیم
·
سیاست مشرق و مغرب
جمہوریت
ضربِ کلیم
·
سیاست مشرق و مغرب
مزید نظمیں دکھائیں
اشعار
1265
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
سنیں گے میری صداخانزاد گان کبیر؟
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
وہی حرم ہے، وہی اعتبار لات و منات
خدا نصیب کرے تجھ کو ضربت کاری
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے
بالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسماں
زیر پر آگیا تو یہی آسماں، زمیں!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو
خورشید ! سرا پردئہ مشرق سے نکل کر
پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائی
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی
افرنگ ز خود بے خبرت کرد وگرنہ
اے بندئہ مومن ! تو بشیری، تو نذیری
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد
دنیا ہے روایاتی، عقبی ہے مناجاتی
در باز دو عالم را، این است شہنشاہی!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
بے جرات رندانہ ہر عشق ہے روباہی
ممکن نہیں تخلیق خودی خانقہوں سے
اس شعلہ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر کیا
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
مجھ کو تو یہ دنیا نظر آتی ہے دگرگوں
اے شیخ، امیروں کو مسجد سے نکلوا دے
ہے ان کی نمازوں سے محراب ترش ابرو
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں الجھا تو
مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری
اور عیار ہیں یورپ کے شکر پارہ فروش
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
جس کے پرتو سے منور رہی تیری شب دوش
نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو
یہ بے کلاہ ہے سرمایہ کلہ داری
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
پرورش دل کی اگر مد نظر ہے تجھ کو
مرد مومن کی نگاہ غلط انداز ہے بس!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس
ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام
روح ہے جس کی دم پرواز سر تا پا نظر!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر
تیری بے علمی نے رکھ لی بے علموں کی لاج
عالم فاضل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان
اپنی خودی پہچان
او غافل افغان
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندستان
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید
مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
وہ صاحب فن چاہے تو فن کی برکت سے
ٹپکے بدن مہر سے شبنم کی طرح ضو!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو
قوموں کی تقدیر وہ مرد درویش
جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
کیا چرخ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ
تری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے!
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی
رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا
اتر گیا جو ترے دل میں لاشریک لہ
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام
اے مرے فقر غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا
خلعت انگریز یا پیرہن چاک چاک
ضربِ کلیم
·
محراب گل افغان کے افکار
·
میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاوں کہاں
مزید اشعار دکھائیں